کاروار:3؍دسمبر (ایس اؤ نیوز) ریاست میں کورونا وائرس کے خوفناک حالات کےچلتے ریاستی اسکولوں اور کالجوں کو شروع کرنے میں جہاں سرکار پس وپیش سے کام لے رہی ہےوہیں ودھان پریشد کے ارکان اسکولوں کو دوبارہ شروع کرنے پر زور دیتے ہوئے حکومت پر دباؤ بنارہےہیں ۔ اسی دباؤ کو دیکھتےہوئےریاستی حکومت اسکولوں کو شروع کرنے کے متعلق فیصلہ لینے کا امکان نظر آر ہاہے۔
عوامی سطح پر یہ الزام لگایا جارہاہے کہ پرائیویٹ اسکولوں کے دباؤ کو لےکر طلبا کے مستقبل کے بہانے ریاست میں اسکولوں کو شروع کرنے کے لئے ودھان پریشد کے ارکان سرکار پر زور دیتےہوئے مطالبہ کررہےہیں کہ وہ طلبا کے تعلیمی مستقبل کی خاطر اسکولوں کو کھولے۔ کورونا کے خوف سے والدین اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے کو تیار نہیں ہیں، لیکن ودھان پریشد کے ارکان حکومت پر دباؤ بنا نے کے نتیجے میں ریاستی حکومت اور محکمہ تعلیمات عامہ اسکولوں کو کھولنے کا فیصلہ لینے پر غور کررہی ہے۔
سمگر شکشن کرناٹک ہال میں پرائمری اور ہائی اسکول محکمہ کے سنگین مسائل اور دیگر موضوعات کے متعلق وزیر برائے پرائمری اور ہائی اسکول کی صدارت میں میٹنگ کا انعقاد ہوا۔ میٹنگ میں اساتذہ اور گریجویٹ حلقہ سے منتخب ہوئے ودھان پریشد کے ارکان اور اعلیٰ افسران شریک ہونےکی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
میٹنگ میں ودھان پریشد کے ارکان نے کہاکہ اسکول شروع نہ ہونے کے نتیجےمیں دیہی علاقوں کے طلبا خاص کر سرکاری اسکولوں کے طلبا تعلیم سے محروم ہوتے جارہے ہیں اور کئی مسائل جنم لینےکی شکایت کی۔ طلبا کے تعلیمی مستقبل کو دھیان میں رکھتےہوئے پہلےمرحلےمیں ایس ایس ایل سی اور پی یوسی دوم کے کلاسس شروع کریں۔ اسکولوں کو شروع کریں گے تو محکمہ تعلیمات عامہ کو درپیش کئی مسائل حل ہوجانے کا ودھان پریشد ارکان نے خیال ظاہرکیا۔
طویل عرصے سے بچے تعلیمی ماحول اور اسکول سے دور رہیں گے تو ان کے مستقبل پر اثر پڑے گا، اس کو پیش نظر رکھتے ہوئے جلد اسکولوں کو شروع کرنا بہتر ہونے کی میٹنگ میں صلاح دی گئی ۔ سال بھر بچے اسکول سے الگ رہیں گے توان میں سستی و کاہلی پیدا ہوجائے گی۔ ابھی سے ایک طرح سے بچے ذہنی تناؤ کا شکار ہورہےہیں، آگے چل کر یہ تعلیمی ماحول پر بھی اثر انداز ہوگا۔ اس کے متبادل مسائل بھی پیدا ہونگے۔ ارکان پریشد نے خطرہ جتاتےہوئے کہا کہ اسکول بند ہونے سے بچے مزدوری وغیرہ کررہےہیں، جس سے آگے چل کر مزید سماجی مسائل پیدا ہوں گے۔
میڈیارپورٹوں کو نظر انداز کرنا ہی بہتر ہوگا : ودھان پریشد کے ارکان نے حکومت کو صلاح دیتے ہوئے کہا کہ دیہی علاقوں میں روزانہ سبھی سرگرمیاں شرو ع ہوچکی ہیں، گلی محلوں میں بچے گروپ کی شکل میں کھیل رہےہیں، کسی کو مسئلہ نہیں ہے، ان لاک کے بعد ہر طرح کے کام انجام دئیے جارہےہیں، لیکن کیابات ہے کہ صرف اسکولوں کو کھولا نہیں جارہا ہے۔ خاص کر ایس ایس ایل سی اور پی یو سی دوم کی کلاسس شروع کرنےکے متعلق جلد فیصلہ لینا ہوگا۔ سماجی فاصلہ اور پیشگی اقدامات کا انتظام کرکے کلاسس شروع کریں، الکٹرانک میڈیا کی طرف زیادہ توجہ دینے کے بجائے بچوں کے مستقبل کے متعلق غور کریں۔ میڈیا کسی ایک مسئلے کو لےکر دن بھر بحث کرتے رہتاہے اور بتایا جاتاہے کہ اسکولوں کو شروع کریں گے تو اور بھی مسائل پیدا ہونگے۔ ایسی بحثوں کو مزید سننے کی قوت نہیں ہے یہ ایسے ہی چلتا رہے گا اس لئے میڈیا رپورٹس کو نظر انداز کرتےہوئے اسکولوں کی شروعات کرنا بہتر ہے۔